آیت:10

فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ

ان کے دلوں میں بیماری ہے، پھر اللہ نے ان کی بیماری میں مزید اضافہ کر دیا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

دل کے اندھیروں کا سفر

یہ آیت ایک آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنی اصل حقیقت دیکھ سکتا ہے، اگر وہ دیکھنا چاہے۔ یہ صرف "منافقین" کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اس دل کی کیفیت کا نقشہ ہے جو سچائی کے سامنے آکر بھی اس سے آنکھیں چرا لیتا ہے۔

بیماری کہاں ہے؟

اللہ تعالیٰ نے یہاں "عقولهم" (ان کی عقلوں میں)یا "نفوسهم" (ان کی جانوں میں) نہیں کہا، بلکہ "قُلُوبِهِم" (ان کے دلوں میں) فرمایا۔  یہاں "قلب" کا ذکر انتہائی اہم ہے، کیونکہ انسانی ہدایت و گمراہی کا اصل مرکز دل ہے، نہ کہ صرف دماغ۔

سوچیں! اگر دماغ میں کوئی غلطی ہو، تو دل کی ہدایت اسے درست کر سکتی ہے، لیکن اگر دل ہی بیمار ہو جائے، تو پھر پورا انسان برباد ہو جاتا ہے۔

قلب کا بیمار ہونا کسے کہتے ہیں؟

دل اور دماغ کا فرق:

دماغ کسی چیز کے حق میں دلائل تلاش کرتا ہے، لیکن فیصلہ ہمیشہ دل کرتا ہے۔اگر دل کمزور ہو جائے، تو انسان کسی بھی دلیل کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتا، بلکہ وہ صرف اپنی پسند کے مطابق دلائل تلاش کرتا ہے۔یہی بیماری کی سب سے خطرناک شکل ہے کہ انسان سچ کو سن کر بھی اس پر اثر نہ لے۔

یہ بیماری بڑھتی کیسے ہے؟

جب انسان کسی بیماری کو معمولی سمجھ کر علاج نہ کرے، تو وہ بیماری شدید ہو جاتی ہے۔   اگر حسد کا علاج نہ کیا جائے، تو وہ بغض میں بدل جاتا ہے۔   اگر بغض کا علاج نہ کیا جائے، تو وہ دشمنی میں بدل جاتا ہے۔    اگر دشمنی کا علاج نہ کیا جائے، تو وہ مکمل اندھے پن میں بدل جاتا ہے، جہاں حق اور باطل کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔  یہی وہ کیفیت ہے جس کا نتیجہ "فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا" میں بیان کیا گیا ہے۔

بیماری کیوں بڑھا دی گئی؟

یہاں اللہ کا ایک بہت بڑا قانون بیان کیا گیا ہے، جسے سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔  انسان کے دل میں جو رجحان پیدا ہوتا ہے، اللہ اسی کو مزید مضبوط کر دیتا ہے۔   اگر کوئی شخص ہدایت چاہتا ہے، تو اللہ اس کے لیے مزید راستے کھول دیتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص گمراہی میں ضد کرتا ہے، تو اللہ اس کے دل کو اور سخت کر دیتا ہے۔

یہ کس طرح کام کرتا ہے؟ جب کوئی شخص حق کو دیکھ کر بھی انکار کرتا ہے، تو اللہ اس کے دل کو اس انکار پر مزید مضبوط کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ حق کو دیکھنے کے باوجود اسے ایک آپشن نہیں، بلکہ ایک رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی ضد کو "عقل" اور "حقیقت پسندی" کا نام دے دیتا ہے۔  وہ ہر سچائی کو رد کرنے کے لیے اپنے ذہن میں بہانے پیدا کر لیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود کو مکمل دھوکے میں ڈال دیتا ہے کہ   وہی حق پر ہے، جبکہ اصل میں وہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ انسان کو چھوڑ دیتا ہے، اور اس کے دل پر ایک مہر لگا دی جاتی ہے۔