وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔
یہ آیت منافقین اور ہر اس شخص کے بارے میں ایک گہری حقیقت بیان کر رہی ہے جو فساد کو اصلاح کا نام دیتا ہے اور اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلیلیں گھڑتا ہے۔
یہاں ایک اہم نفسیاتی حقیقت ظاہر کی جا رہی ہے۔ اللہ نے نہیں کہا کہ "جب وہ خود سمجھتے ہیں"، بلکہ فرمایا: "جب ان سے کہا جاتا ہے"۔یعنی یہ خود نہیں سوچتے، انہیں متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے عمل کو غلطی نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں باہر سے متنبہ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی ان کو غلطی پر ٹوکتا ہے، تو بجائے سننے کے وہ فوراً ردعمل دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب اپنی غلطیوں کو پہچاننے کی صلاحیت کھو دے، تو وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
یہ آج کے معاشرے میں کیسے ہوتا ہے؟
جب کسی کو کہا جائے: "رشوت مت لو، یہ حرام ہے"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو سسٹم کا حصہ ہے، ہم اسے بہتر کر رہے ہیں!"
جب کسی کو کہا جائے: "جھوٹ مت بولو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو حکمت ہے، ہر بات کھل کر نہیں کہی جا سکتی!"
جب کسی کو کہا جائے: "سچ کا ساتھ دو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ دنیا ایسی نہیں، ہمیں بھی چالاک بننا پڑتا ہے!"
یہ رویہ دراصل منافقت کا آغاز ہوتا ہے، جہاں غلط کو صحیح کا نام دیا جاتا ہے۔
یہاں فساد (إفساد) کا مطلب صرف عام بگاڑ نہیں، بلکہ بہت وسیع اور گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ فساد کیا ہے؟ جب کسی چیز کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب حق اور باطل کو ملا کر ایک نیا نظریہ پیش کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔جب دین میں اپنی مرضی کے مطابق تحریف کی جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب سچ کو دھوکہ دہی کے پردے میں چھپا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب دنیا میں عدل کے بجائے ظلم کو رائج کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔