أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ
ترجمہ: "خبردار! یقیناً وہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں، لیکن وہ (اس کا) شعور نہیں رکھتے۔"
یہ آیت ایک ایسے سماجی اور نفسیاتی رویے کو بے نقاب کرتی ہے جو فرد، خاندان، معاشرے اور پوری امت کے زوال کی بنیاد رکھتا ہے: خودفریبی میں مبتلا ہو کر بگاڑ کو بھلائی سمجھنا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ صرف مذہب اور اخلاقیات میں بلکہ انسانی تاریخ، نفسیات، سیاست اور سماجیات میں بار بار سامنے آتی ہے۔
اگر ہم "فساد" کے حقیقی مفہوم کو سمجھیں، تو یہ محض ظاہری تباہی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا "نظامی بگاڑ" ہے جو دھیرے دھیرے زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کر جاتا ہے۔ فساد کی جڑ نظام میں غیر محسوس بگاڑ ہے۔ اس میں سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ فساد پھیلانے والا اسے اصلاح سمجھ کر کر رہا ہوتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے آیت نمایاں کرتی ہے:
"وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ"
لیکن وہ شعور نہیں رکھتے!
یہ آیت انسان کے سب سے پیچیدہ روحانی، فکری اور نفسیاتی مرض کی نشاندہی کرتی ہے، جسے "خودفریبی" کہا جا سکتا ہے۔
جب کوئی شخص "علم" کے نام پر ایسی تعبیرات اور نظریات گھڑ لے جو دین کے اصل پیغام کو بگاڑ دیں، لیکن وہ خود کو "دانشور" اور "مصلح" سمجھے۔جب کوئی استاذ یا عالم، صرف اپنی ذاتی تشریح کو حتمی سمجھے اور دوسروں کے نقطہ نظر کو دبانے لگے، حالانکہ وہ درحقیقت امت میں تفرقہ ڈال رہا ہو۔ جب کوئی اپنی عقل پر ایسا بھروسا کرے کہ وحی کی روشنی کو کمتر سمجھے، اور خود کو ایک "عقلمند مصلح" کے طور پر پیش کرے۔
بعض لوگ دوسروں کو "نصیحت" کرنے اور "سدھارنے" کے عمل میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ اپنے لہجے، الفاظ اور طرزِ عمل میں سختی، تحقیر اور تکبر شامل کر لیتے ہیں، مگر انہیں لگتا ہے کہ وہ اصلاح کر رہے ہیں۔ والدین بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے نام پر انہیں مغربی ثقافت یا مادی دوڑ میں جھونک دیتے ہیں، لیکن وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے کہ ان کے بچوں کی روحانیت تباہ ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ دوسروں پر تنقید، تبصروں اور اصلاحی لیکچرز میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کے اندر ایک خودساختہ برتری کا احساس آ جاتا ہے، اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ معاشرے کی اصلاح کر رہے ہیں، جبکہ وہ دراصل دوسروں کو نیچا دکھا کر اپنا نفس تسکین دے رہے ہوتے ہیں۔
جب کوئی اپنے فرقے، گروہ یا جماعت کو "حقیقت کا واحد علمبردار" سمجھے اور دوسروں کو کمتر جانے۔ جب کوئی دین کے نام پر تشدد، شدت پسندی، یا فکری استبداد کو فروغ دے، مگر سمجھے کہ وہ "اللہ کا کام" کر رہا ہے۔ جب علماء، خطباء، اور دینی رہنما خود کو امت کی قیادت کا حق دار سمجھیں، مگر ان کے بیانات، فتوے اور نظریات امت میں انتشار کا باعث بنیں۔
حکمران جب "عوامی مفاد" کے نام پر قوانین بناتے ہیں، مگر وہ درحقیقت استحصالی، غیر منصفانہ اور ظالمانہ ہوتے ہیں۔ جب سیاستدان "ملکی بہتری" کا نعرہ لگا کر درحقیقت کرپشن، دھوکہ دہی اور طاقت کی ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں، مگر انہیں شعور نہیں ہوتا کہ وہ کتنی تباہی لا رہے ہیں۔ جب میڈیا اور دانشور طبقہ "سچائی" کے نام پر ایسا بیانیہ تشکیل دیتا ہے جو دراصل جھوٹ اور مفاد پرستی پر مبنی ہوتا ہے۔
یہ سب وہ صورتیں ہیں جو "فساد" کی مختلف شکلیں ہیں، مگر ان میں ملوث افراد خود کو مصلح سمجھ رہے ہوتے ہیں!
انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو غلط تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ جو کچھ کر رہا ہوتا ہے، اسے ہمیشہ اپنے زاویے سے "درست" ہی محسوس ہوتا ہے۔ فرعون نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ غلط کر رہا ہے۔ نمرود نے کبھی نہیں سمجھا کہ وہ بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ منافقین اپنے دوغلے رویے کو "اصلاح" کہتے تھے۔ یہی بیماری آج کے دور میں بھی ہمیں اپنے اندر تلاش کرنی چاہیے۔ کیا ہم کہیں اپنی کسی روش، کسی رویے، یا کسی فیصلے کو حق سمجھ کر فساد تو نہیں پھیلا رہے؟
اس آیت کا سب سے گہرا سبق یہ ہے کہ ہر "اصلاح" درحقیقت "اصلاح" نہیں ہوتی۔ ہر "تعلیم" فائدہ مند نہیں، اگر وہ ایمان کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہو۔ ہر "اصلاحی تحریک" مفید نہیں، اگر وہ فکری یا جسمانی بغاوت پر ابھارے۔ ہر "نصیحت" خیر نہیں، اگر وہ دوسروں کی تذلیل کا سبب بنے۔
قرآن یہاں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ لوگ جان بوجھ کر فساد کر رہے ہیں، بلکہ وہ اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں فساد بھی اصلاح لگتا ہے!یہی وہ لمحہ ہے جہاں رک کر ہر شخص کو خود سے سوال کرنا چاہیے: "میں جو کچھ کر رہا ہوں، کیا وہ واقعی بھلائی ہے، یا میں خودفریبی میں مبتلا ہو چکا ہوں؟