آیت:13

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۚ أَلَا إِنَّهُمْ هُمْ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگوں نے ایمان لایا ہے، تو وہ کہتے ہیں: کیا ہم ایمان لائیں جیسے کم عقل لوگوں نے ایمان لایا ہے؟ خبردار! وہی لوگ کم عقل ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے۔

یہ آیت عقل و دانش کے وہم کو بے نقاب کرتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی سوچ کو معیارِ حق بنا لیتے ہیں اور دین کو سادہ لوحی، جبکہ دنیاوی ہوشیاری کو اصل عقل سمجھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان کو نہیں، ایمان والوں کو نادان کہتے ہیں۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ

"جب ان سے کہا جاتا ہے: ایمان لے آؤ جیسے (یہ) لوگ ایمان لائے"

یہاں "النَّاسُ" کا ذکر عام مؤمنین کی طرف اشارہ ہے، یعنی جو خالص نیت سے ایمان لائے۔ لیکن منافقین کا جواب تھا:

قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ؟

"کیا ہم بھی ایسے ایمان لے آئیں جیسے بے وقوف ایمان لائے؟"

یہ الفاظ محض انکار نہیں بلکہ طنز ہیں، اور یہی تکبر کا سب سے خطرناک درجہ ہوتا ہے، جب انسان حق کو حقیر سمجھنے لگے۔

اصل بے وقوف کون؟ قرآن کا فیصلہ

اللہ تعالیٰ اسی فکری دھوکے کو چیر کر حقیقت آشکار کرتے ہیں:

أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ

"خبردار! حقیقت میں یہی بے وقوف ہیں، مگر انہیں علم نہیں۔''

یہاں "أَلَا" تنبیہ اور جھنجھوڑنے کے لیے آیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں:  رک جاؤ! تمہاری ساری عقل محض ایک فریب ہے! یہاں ایک نہایت باریک نکتہ موجود ہے:  اللہ نے یہ نہیں کہا کہ "یہ بھی بے وقوف ہیں"، بلکہ فرمایا "یہی بے وقوف ہیں!"یعنی اصل سفاہت (بے وقوفی) کی سب سے بڑی علامت حق کو مسترد کرنا اور خود کو عقل مند سمجھنا ہے۔

انسانی نفسیات میں خود فریبی کا جال

یہاں ہم انسانی نفسیات کی ایک پیچیدہ گتھی کو کھولتے ہیں:  انسان فطری طور پر خود کو بہتر سمجھنا چاہتا ہے، اور اسی میں سب سے بڑا دھوکہ ہے۔  جو گناہ میں ہوتا ہے، وہ خود کو "ماڈرن" سمجھتا ہے۔  جو حرام کماتا ہے، وہ کہتا ہے "یہی دنیا کی حقیقت ہے!"  جو دین سے دور ہوتا ہے، وہ کہتا ہے "ہم عقلمند ہیں، یہ مولوی لوگ بے وقوف ہیں!"

وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ

"مگر انہیں علم نہیں!"

یہ جہالت کی سب سے خوفناک قسم ہےانسان کو اپنی جہالت کا شعور ہی نہ ہو!''ایمان والے بے وقوف"  یہی فکری مغالطہ ہر دور میں رہا ہے۔یہ رویہ آج بھی ہمارے معاشرے میں مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے: