آیت:14

وَإِذَا لَقُوا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا ۖ وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَـٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ ۖ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ

اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو محض مذاق کر رہے تھے۔

"باطن کے بت" اور "ظاہر کا نور"

یہ آیت نہ صرف منافقین کے کردار کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور شخصیت کے دوغلے پن کی بھی خبر دیتی ہے۔  ایسا شخص جو مختلف محفلوں میں مختلف رنگ اختیار کرے، درحقیقت وہ ایک "بےجڑ درخت" کی مانند ہوتا ہےنہ اپنی جڑیں رکھتا ہے، نہ پھل دیتا ہے، بس ہر جھونکے کے ساتھ جھکتا اور گرتا ہے۔

باطن کی تضاد سے پیدا ہونے والی روحانی منافقت

"قَالُوا آمَنَّا"   زبان کا دھوکہ  ۔۔۔ ایمان کا دعویٰ صرف زبان سے تھا۔ دل ایمان سے خالی تھا۔    یہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے: "الحمدللہ، میں نمازی ہوں" کہنے والا شخص کسی کی غیبت میں شریک ہوتا ہے۔ "الحمدللہ، ہم دیندار گھرانے سے ہیں" کہنے والا اپنے نفس کی غلامی میں دن گزارتا ہے۔یہ زبان کی چمک باطن کی تاریکی کو چھپا نہیں سکتی۔

قرآن کا انتباہ:

"يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ"

وہ اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا۔  (الفتح: 11)

خلوت میں اصل چہرہ ظاہر ہوتا ہے

"وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ"

یعنی جب وہ ایمان والوں سے الگ ہوتے ہیں، اور اپنی اصل محفل میں پہنچتے ہیں، تب ان کی حقیقت کھلتی ہے۔

یہاں سوال یہ ہے:

میری خلوت کیا ہے؟ کیا میں تنہائی میں بھی ویسی ہی ہوتی ہوں جیسا لوگوں کے سامنے ہوں؟  یا میرا اصل چہرہ صرف رات کی تاریکی یا بند دروازوں کے پیچھے نظر آتا ہے؟عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا:

"لو رأيتم خلوات الناس، لعرفتم وجوههم!"

اگر تم لوگوں کی تنہائیوں کو دیکھ سکو، تو ان کے چہرے پہچان لو گے۔

"شياطينهم" ہمارے شیطان کون ہیں؟

یہاں "شیطان" صرف جنّات نہیں بلکہ ہر وہ شخص یا نظریہ ہے: جو ہمیں اللہ کی یاد سے دور کرے۔ جو ہمیں دین کے ظاہری عمل کی محض نمائش کی طرف لے جائے۔ جو دل میں وسوسے، حسد، تکبر یا کینہ بڑھائے۔شیطان کی چال یہ نہیں کہ وہ کہے: کفر کر! بلکہ وہ کہتا ہے: منافقت کر، تاکہ کفر تمہیں خود ہی کھینچ لے۔

"إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ" مذاق جو ایمان کو کھا جائے