اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
اللہ ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکنے دیتا ہے۔
یہاں "اللہ ان سے مذاق کرتا ہے" کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ (نعوذباللہ) انسانوں کی طرح کسی کی تضحیک کرتا ہے۔ یہاں اللہ کا مذاق دراصل عدلِ کامل ہے جسے دنیا والے مہلت سمجھتے ہیں، مگر وہ عذاب کی تیاری ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے: "جب ہم دین کا مذاق اڑائیں، تو اللہ ہماری عقل کا چراغ بجھا دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں سب ٹھیک ہے، مگر ہم بھٹک رہے ہوتے ہیں۔"
یعنی سزا اس طرح دی جاتی ہے کہ انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ سزا میں ہے۔
"یمدّھم" کا مطلب ہوتا ہے کسی کو رسی دینا، ڈھیل دینا۔ یہ ڈھیل رحمت نہیں، آزمائش یا انتقام ہوتا ہے۔ جیسے شکار کے لیے جال بچھایا جاتا ہے، پرندہ اُس پر کھیلتا ہے، آزاد سمجھتا ہے، مگر وہ رسی آہستہ آہستہ کھینچ لی جاتی ہے۔علامہ ابن القیمؒ لکھتے ہیں:
"جب اللہ کسی کو اُس کے گناہ پر چھوڑ دے، اور اسے دنیا کی آسائشیں دے کر مطمئن رکھے، تو سمجھ لو کہ وہ شخص مہلت میں ہے، نہ کہ محبوب۔"
یہ الفاظ بھی قابلِ غور ہیں ۔اللہ انہیں ان کی اپنی سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی ان کا اپنا گناہ، ان کی سزا بن جاتا ہے۔جب گناہ “سہولت” بن جائے، تو سمجھ لو کہ اللہ نے دل کی آنکھ بند کر دی ہے۔
فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
جب وہ خود بھٹک گئے، تو اللہ نے ان کے دلوں کو بھی بھٹکا دیا (الصف: 5)
"عَمَهَ" کا مطلب صرف اندھا ہونا نہیں، بلکہ دل و دماغ کا بے سمت ہونا ہے۔ یہ ایسا اندھیرا ہے جہاں انسان کو نیکی بدی جیسی لگنے لگتی ہے۔گناہ پر ندامت نہیں رہتی۔ حق مشورہ لگتا ہے، اور باطل آزادی۔ علم صرف بحث کے لیے ہوتا ہے، عمل کے لیے نہیں۔ یہ اندر کی موت ہے۔
دل کی بیماری چھپتی نہیں، پھیلتی ہے۔منافقین کی طرح اگر ہم زبان سے دیندار بنیں، مگر دل میں فریب چھپائے رکھیں، تو ایک وقت آئے گا کہ اللہ اُسے ہماری تقدیر کا حصہ بنا دے گا۔نیت ایک چھوٹا سا بیج ہے وہ یا تو شجرِ طیب بنے گا یا زقوم۔
کبھی یہ مت سمجھیں کہ سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے۔اگر نافرمانیوں کے باوجود رزق بڑھ رہا ہے،شہرت مل رہی ہے، سکون سا لگتا ہے ،تو یہ ضروری نہیں کہ یہ رحمت ہو۔یہ اللہ کا ''استہزاء'' ہو سکتا ہے!خاموش، مگر فیصلہ کن۔
اپنی بھٹکاؤ کی کیفیت کو پہچانیں۔اگرقرآن سن کر دل بے اثر ہو ،نماز صرف فرض کی ٹِک مارک ہو ، گناہ کو اتنا بھی برا نہیں سمجھا جائے ،تو یہ "یعمھون" کی ابتدا ہے۔