آیت:16

أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَـٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ ۖ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَـٰرَتُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی، پس ان کی تجارت نے نفع نہ دیا اور نہ وہ ہدایت یافتہ ہوئے۔

دل کی زمین پر گرا ایک الہامی جملہ

جیسے ہی یہ آیت میرے دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے، میں خود کو ایک اندھیرے کمرے میں محسوس کرتی ہوں۔ سامنے دو صندوق رکھے ہیں:

ایک میں ہدایت: سچ، تقویٰ، صبر، نماز، قربانی، توکل۔

اور دوسرے میں گمراہی: لذت، آسانی، خواہش، جھوٹ، فریب، دکھاوا۔

اور آواز آتی ہے:  "چن لو، سودا کر لو۔"

یہ آیت دل پر کپکپاہٹ طاری کر دیتی ہے۔ کیا میں نے کبھی نرمی کی جگہ غصہ چُن کر ہدایت کو نہیں بیچا؟ کیا میں نے کبھی نماز کے وقت سکرولنگ کو ترجیح دے کر وہ تجارت نہیں کی؟ کیا میں نے کبھی سچ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کر کے گمراہی خریدی؟

خرید و فروخت کی عجب منطق!

اشتروا الضلالة بالهدى

لفظ "اشتروا" (خریدا) یہاں سب سے زیادہ چبھتا ہے۔ یہ خریدنا غیر شعوری نہیں ہے یہ سوچ کر کیا گیا فیصلہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان جانتا ہے کہ کیا صحیح ہے، لیکن نفس کہتا ہے:  "ابھی نہیں۔ بعد میں۔ سب یہی کرتے ہیں۔"اور بندہ ہدایت کو ترک کر دیتا ہے۔ مگر وہ بھول جاتا ہے کہ ہدایت ایک نعمت ہے، محض ایک آپشن نہیں۔

"فما ربحت تجارتهم" وہ گھاٹے کا سودا

یہ دنیا بھی تو بازار ہے۔ ہر دن ہم کچھ بیچتے ہیں اپنا وقت، اپنی نیت، اپنے اعمال۔ لیکن اللہ فرما رہے ہیں:  "ان کی تجارت نفع مند نہ ہوئی۔"

یہ کتنا شدید جملہ ہے! دنیا کے تمام کاروباروں میں اگر گھاٹا ہو تو دوبارہ کمایا جا سکتا ہے۔ مگر اگر ہدایت ہی ہاتھ سے چلی جائے؟ تو باقی کیا بچے گا؟ دنیا؟ شہرت؟ سکون؟ یہ سب اُسی ہدایت کے صدقے ہی تو تھے!ارشاد باری تعالی ہے:

قُلْ إِنَّ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ (الزمر 15:39)

"بیشک سب سے بڑا خسارہ یہ ہے کہ آدمی قیامت کے دن خود کو اور اپنے گھر والوں کو کھو دے۔"

"وما كانوا مهتدين" وہ کبھی ہدایت یافتہ نہ تھے۔

یہ محض ایک خبر نہیں، ایک فیصلہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی حقیقت میں "راہِ ہدایت" پر نہیں تھے ان کے ایمان کے دعوے، ان کے ظاہری اعمال، ان کی خوبصورت باتیں سب ایک دکھاوا تھیں۔

کیوں؟ کیونکہ ہدایت صرف جان لینے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کو اُس علم کے تابع کرنے کا نام ہے۔