آیت:17

مَّثَلُهُمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارًۭا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَـٰتٍۢ لَّا يُبْصِرُونَ

مثال ان (منافقوں) کی اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی، پھر جب اس نے اپنے اردگرد کو روشن کر دیا، اللہ نے ان کا نور چھین لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا، کہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔

یہ آیت صرف منافقین کی تمثیل نہیں  یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو ایمان کی طلب میں نکلتا ہے مگر نیت کی کمزوری، اخلاص کی کمی اور دنیا کی محبت کی وجہ سے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ہدایت کا چراغ بجھا دیتا ہے۔

ٱسْتَوْقَدَ نَارًۭا – اس نے آگ جلائی

یہ وہ انسان ہے جو ہدایت کی تلاش میں سفر شروع کرتا ہے۔ وہ سچائی سے متاثر ہوتا ہے، شاید کسی تقریر سے، قرآن کی آیت سے،  یا کسی ولی کامل کی بات سے۔   وہ ایمان کی "چنگاری" مانگتا ہے، جیسے تاریک رات میں کوئی تھوڑا سا راستہ دیکھنا چاہتا ہے۔

لیکن یہاں ایک زبردست نکتہ ہے:  اس نے آگ جلائی، نور نہیں۔آگ سے روشنی بھی ہوتی ہے، لیکن حرارت، دھواں اور عارضی روشنی بھی۔   آگ کا نور وقتی ہوتا ہے، مگر دل کا نور دائم ہوتا ہے۔دل کا نور سکون دیتا ہے، روشنی دکھاتا ہے،   آگ خوف، دھواں، شور، اور وقتی چمک پیدا کرتی ہے۔یہ شخص بظاہر دینداری اختیار کرتا ہے، لیکن اس کی نیت میں اخلاص نہیں۔وہ ماحول سے متاثر ہوتا ہے، لیکن باطن سے منسلک نہیں ہوتا۔

فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ – جب آگ نے اردگرد کو روشن کر دیا

اس منظر کی تصویر کشی کریں: جیسے کوئی اندھیری وادی میں روشنی کی ایک کرن پا لے  ۔وہ اپنے گرد کو دیکھتا ہے: لوگ، حالات، راستے  سب روشن لگتے ہیں۔  لیکن۔۔۔ یہ روشنی صرف "حَولَهُ"  یعنی "اس کے اردگرد" ہے، "اندر" نہیں۔یہاں ایک انتہائی گہرا سوال اٹھتا ہے:کیا میرا دین میرے اندر اتر گیا ہے، یا صرف میری محفلیں روشن کر رہا ہے؟ انسان محفلِ ذکرمیں بیٹھتا ہے، دل نرم ہوتا ہے، آنکھیں بھیگتی ہیں ۔مگر جیسے ہی باہر نکلتا ہے، وہی نفس، وہی دنیا، وہی غفلت۔ یہ وہی ہے: "مَا حَوْلَهُۥ" باہر روشنی، اندر تاریکی۔

ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ – اللہ نے ان کا نور لے لیا

اب یہ سب سے خوفناک لمحہ ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے "نار" نہیں چھینی بلکہ صرف "نور" چھینا۔ یعنی: شور، ہلچل، ماحول، الفاظ، عبادات  سب باقی صرف دل کی روشنی، بصیرت، خشیت، اللہ کا تعلق  یہ گیا۔ یہاں ہدایت کا سب سے بڑا راز چھپا ہے:ہدایت کا اصل دارومدار "نیت اور دل" پر ہے، نہ کہ ماحول اور الفاظ پر۔جب اللہ "نور" لے لے،تو انسان اندھیروں میں بھی خود کو روشن سمجھتا ہے۔کاش ہمیں محسوس ہو جائے کہ دل کا نور چھن گیا ہے،کیونکہ اصل محرومی وہ ہے جو خود کو ہدایت پر سمجھتے ہوئے بھی گمراہی میں ہو۔

وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَـٰتٍۢ– اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا

یہ لفظ "ترکہم" بہت سخت اور دردناک ہے۔  اللہ تعالیٰ جب کسی کو تنہا چھوڑ دیں تو اس سے بڑا کوئی عذاب نہیں۔  یہ "ظلمات" صرف اندھیرا نہیں  یہ کثیر اندھیریں ہیں:نفاق، شک، خواہشات کی غلامی، دنیا کی محبت، تکبر، خود کو حق پر سمجھنے کا دھوکہ۔۔۔  اور سب سے بڑا قفل؟دل کا بند ہو جانا، کہ نصیحت سن کر بھی اثر نہ ہو۔

اللہ فرماتا ہے: "ترکہم"  انہیں چھوڑ دیا۔یعنی:اب تمہیں کوئی نہ پکارے گا۔۔۔ نہ دل لرزے گا۔۔۔ نہ آنکھ روئے گی۔۔۔ نہ قرآن کچھ کہے گا۔ہ وہ لمحہ ہے جب ہدایت کی تمام راہیں بند ہو جاتی ہیں ۔مگر انسان سمجھتا ہے کہ وہ راہِ حق پر ہے۔

لَا يُبْصِرُونَ– وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے

یہ صرف آنکھوں کی نابینائی نہیں۔۔۔ یہ روحانی اندھا پن ہے: حق دیکھ کر رد کرنا  ، قرآن پڑھ کر بھی نہ بدلنا  ، نصیحت سن کر بھی بے حس رہنا، دل اتنا سخت ہو جانا کہ رونا بھی یاد نہ رہے۔

یہ سب سے خطرناک حالت ہے، کیونکہ انسان کو لگتا ہے کہ وہ "دیکھ رہا ہے"، مگر حقیقتاً وہ "اندھا" ہے۔ دل میں روشنی نہ ہو، تو آنکھیں جتنا بھی دیکھ لیں، راستہ نہیں ملتا۔یہ وہ کیفیت ہے جسے ہم کہتے ہیں:"پتہ نہیں دل سخت ہو گیا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔" یہی ہے:نور چھن چکا ہے، اور تاریکیوں نے دل کو دبوچ لیا ہے۔

یہ آیت مجھے خود سے سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے:"کیا میں بھی اس تمثیل میں کہیں موجود ہوں؟کیا میری نیکی صرف ماحول کا عکس ہے؟ یا میرے اندر بھی نور ہے؟کیا میں دین سے جُڑی ہوں  یا صرف اس کے سائے میں بیٹھی ہوں؟کیا میرا دل واقعی زندہ ہے؟ یا صرف رسمیں باقی ہیں؟"

"رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا"

آمین یا رب العالمین۔