آیت:19

اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ ۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِىۡٓ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌ‌ۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ‏

یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے تو وہ کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

یہ آیت انسان کی باطنی کیفیت کی نہایت گہری تصویر کشی کرتی ہے۔ جب اسے پڑھتی ہوں، تو دل میں ایک روحانی لرزہ محسوس ہوتا ہے۔

یہ تمثیل کیا ہے؟

بارش: ہدایت کی مانند ہے  آسمان سے نازل ہونے والی وحی۔

اندھیرے: شک، منافقت، اور ایمان کی کمی۔

رعد (گرج): قرآن کی تنبیہات۔

برق (چمک): سچائی کی جھلکیاں، جو دل کو ایک لمحے کو روشن کرتی ہیں۔

کانوں میں انگلیاں: حق کو نہ سننے کا رویہ، دل کی سختی۔

یہ آیت مجھے کیا کہتی ہے؟

یہ آیت مجھے اُن لوگوں کی یاد دلاتی ہے جو سچائی کے بہت قریب ہوتے ہیں، کبھی کبھی روشنی کو دیکھ بھی لیتے ہیں، لیکن پھر بھی اندھیروں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ جیسے کوئی طوفان میں ہو، اور بجائے چھت ڈھونڈنے کے، صرف آنکھیں بند کر لے۔

جب میں اس آیت پر غور کرتی ہوں، تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہ آیت مجھے میرے اندر کے موسم کی خبر دے رہی ہے۔

ایک تصور!

مجھے لگتا ہے جیسے میں ایک کھلی زمین ہوں۔۔۔ جس پر ہدایت کی بارش برس رہی ہے۔قرآن کی آیات، اللہ کے پیغامات، زندگی کے سبق، کچھ لوگوں کی باتیں، اور دل کی بے چینی  سب کچھ ایک ہی بارش کی بوندیں ہیں۔یہ آسمانی بارش مجھے رحمت اور ہدایت کی علامت لگتی ہے، لیکن ہر انسان کے دل پر وہ بارش ایک جیسا اثر نہیں ڈالتی۔

پھر اندھیرے آتے ہیں دل کے۔کبھی غفلت، کبھی حسد، کبھی مایوسی، کبھی یہ خیال کہ "بس میں ٹھیک ہوں، باقیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔"یہاں دل تھوڑی دیر کو ٹھٹھک جاتا ہے۔

کبھی کبھی اللہ کی ہدایت کی روشنی نظر آتی ہے، لیکن فوراً شک و شبہ، نفس کی تاریکی یا دنیا کی آوازیں ہمیں وہ روشنی پوری طرح جذب نہیں کرنے دیتیں۔رعد وہ گرج ہے جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ جیسے قرآن کی کوئی سخت آیت، یا زندگی میں آنے والی کوئی آزمائش۔

برق وہ لمحاتی چمک ہے، جیسے کوئی آیت دل پر لگتی ہے اور ایک لمحے کے لیے سب کچھ روشن ہو جاتا ہے   لیکن وہ روشنی اگر دل میں ثبات نہ پائے، تو گزر جاتی ہے۔ اور پھر میں خود کو سوچتے پاتی ہوں۔۔۔ "کیا میں بھی اس دل جیسی ہوں جو چمک سے وقتی طور پر روشن ہوتا ہے، مگر بارش کو اندر جذب نہیں کرتا؟"

"انگلیاں کانوں میں ڈالت ہیں۔۔۔

یہاں میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔میں خود کو دیکھتی ہوں، کئی بار جب کوئی سچائی دل کو چبھتی ہے، تو میں اپنی توجہ ہٹاتی ہوں، بہانے بناتی ہوں، سچ سے نظر چرا لیتی ہوں۔یہ اللہ کی آیتوں سے کان بند کرنے جیسا عمل ہے۔ چاہے وہ ظاہراً نہ ہو، مگر باطن میں یہ حرکت ہو جاتی ہے۔