أُو۟لَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًۭى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
یہ آیت پچھلی چار آیات کا خلاصہ اور نتیجہ ہے۔ جن کی صفات پہلی چار آیات میں ذکر ہوئیں:
یہ تمام صفات رکھنے والے لوگ ہدایت پر ہیں اور حقیقی کامیابی انہی کا مقدر ہے۔ لیکن اس آیت میں ایک نہایت گہرا پیغام چھپا ہے، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہاں دو بڑے نکات ہیں:
اللہ نے یہاں "عَلَىٰ" کا لفظ استعمال کیا، جس کا مطلب ہے کسی چیز پر مضبوطی سے قائم ہونا۔ یعنی یہ لوگ ہدایت کے مالک نہیں، بلکہ ہدایت کے سوار ہیں!تصور کریں:جیسے کوئی مضبوط جہاز سمندر میں چل رہا ہو، اگر آپ اس پر سوار ہیں، تو منزل تک پہنچ جائیں گے۔ جیسے کوئی درخت زمین پر جم کر کھڑا ہو، تو طوفان بھی اسے نہیں گرا سکتے۔ یہ لوگ ایسے نہیں کہ ہدایت ان کے پاس بس ایک نظریہ ہے، بلکہ وہ اس پر پوری طرح جمے ہوئے ہیں۔
یہاں ہمیں سبق لینا چاہیے کہ کیا ہم ہدایت کے "مالک" بننے کی کوشش کر رہے ہیں یا اس کے "مسافر" ہیں؟ کیا ہم ہدایت کو اختیار کرنے میں اتنے مضبوط ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ہلا نہ سکے؟ کیا ہمارا ایمان صرف نظریاتی ہے، یا عملی طور پر ہم ہدایت پر "سوار" ہیں؟
یہاں ایک بہت اہم نکتہ ہے:اللہ تعالیٰ نے کہا کہ یہ ہدایت "مِّن رَّبِّهِمْ" یعنی "ان کے رب کی طرف سے" ہے۔ یہ جملہ ہمیں سکھاتا ہے:ہدایت انسان خود نہیں بنا سکتا، یہ صرف اللہ کی عطا ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے ہدایت نصیب ہو جائے، تو کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔ "رب" کا مطلب ہے پالنے والا، سنوارنے والا، پروان چڑھانے والا۔ یعنی یہ ہدایت کوئی جامد چیز نہیں، بلکہ یہ مسلسل ترقی پاتی ہے!
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہدایت کو ایک جامد چیز سمجھ رہے ہیں یا اسے مسلسل بڑھا رہے ہیں؟ کیا ہم ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں؟
"المفلحون" کا اصل مفہوم صرف "کامیابی" نہیں، بلکہ ''ہمیشہ کے لیے کامیابی'' ہے! عربی زبان میں "فَلَحَ" کا مطلب زمین کا شق ہونا بھی ہے، جیسے ایک کسان زمین کو چیر کر بیج بوتا ہے، پھر وہ بیج آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور آخرکار فصل بن جاتا ہے۔ یہاں ایک بڑی حقیقت چھپی ہے: ایک کسان جب زمین میں بیج بوتا ہے، تو فوری طور پر نتیجہ نہیں ملتا، وقت لگتا ہے۔ ہدایت یافتہ لوگ بھی محنت کرتے ہیں، آزمائشوں سے گزرتے ہیں، لیکن آخرکار کامیاب ہو جاتے ہیں! اس کا مطلب ہے کہ حقیقی فلاح صبر اور استقامت کے بعد آتی ہے۔