آیت:7

خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌۭ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

"اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کے کانوں پر بھی، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔"

یہ آیت ہدایت اور گمراہی کے درمیان ایک فیصلہ کن حقیقت کو بیان کر رہی ہے۔  یہ ہمیں بتا رہی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو خود کو اس مقام پر لے آتے ہیں جہاں نصیحت، حق اور سچائی ان کے لیے بے اثر ہو جاتی ہے۔

یہ آیت میرے لیے ایک آئینہ ہےایک ایسی حقیقت جس میں میں اپنے آپ کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔یہ مجھے ڈراتی بھی ہے، جگاتی بھی ہے، اور ہدایت کا ایک ایسا اصول سکھاتی ہے جسے میں اپنی زندگی کا بنیادی سبق بنا سکتی ہوں۔ ہدایت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے! مگر کیا ہوگا اگر یہ ہم سے چھین لی جائے؟یہ آیت ہمیں اسی خوفناک انجام کے بارے میں بتا رہی ہےایک ایسا انجام جہاں دلوں پر مہر لگ جاتی ہے، کان حق نہیں سن سکتے، اور آنکھیں سچائی دیکھنے سے قاصر ہو جاتی ہیں۔یہ کیسا المیہ ہے؟ کیسا خوفناک لمحہ ہے جب انسان کے لیے ہدایت کا دروازہ بند کر دیا جائے!یہی لمحہ میری روح کو جھنجھوڑتا ہےکہیں میں بھی تو اس راہ پر نہیں؟

دل پر مہر کیوں لگتی ہے؟

"خَتَمَ" کا مطلب ہوتا ہے "مہر لگا دینا، بند کر دینا"جب کسی چیز پر مہر لگا دی جاتی ہے تو اب اس میں نہ کوئی چیز داخل ہو سکتی ہے، نہ نکل سکتی ہے۔یہ سب سے خوفناک کیفیت ہے!اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کیوں لگا دی؟ کیا یہ زبردستی ہوا؟نہیں! بلکہ یہ ان کے اپنے اعمال کی سزا ہے!

"فَلَمَّا زَاغُوا۟ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمْ" (الصف: 5)

"پھر جب وہ خود ٹیڑھے ہو گئے، تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا!

یعنی جب کوئی شخص خود ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ہدایت کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ دل نصیحت قبول کرے، اور گمراہی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ دل نصیحت سے بند ہو جائے!

یعنی یہ مہر کسی زبردستی کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے لگتی ہے!خود سے سوال کریں اگر میں گناہوں کو معمولی سمجھنے لگوں،اگر میں حق کو نظر انداز کرنے لگوں، اگر میں بار بار نصیحت کو سن کر بھی عمل نہ کروں،تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا دل بھی سخت ہو جائے، اور ایک دن اس پر بھی مہر لگ جائے! یہی لمحہ سب سے زیادہ خوفناک ہے! کیونکہ اگر ہدایت کا دروازہ بند ہو جائے، تو پھر پلٹنے کا راستہ کہاں ہوگا؟

جب کان حق نہیں سنتے!

"سَمْع" کا مطلب سننے کی طاقت ہے۔ کانوں پر مہر کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی!چاہے قرآن پڑھا جائے، چاہے علم کی باتیں کی جائیں، وہ سب بے معنی لگتی ہیں! یہ کیوں ہوتا ہے؟  جب ہم بار بار نصیحت کو رد کرتے ہیں، جب ہم دین کی باتیں سنتے ہیں مگر ان پر غور نہیں کرتے، جب ہم سچائی کو قبول کرنے کے بجائے اسے جھٹک دیتے ہیں،تو ایک وقت آتا ہے کہ نصیحت دل میں اثر کرنا چھوڑ دیتی ہے!قرآن پاک میں ارشاد ہے:

"وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۚ" (الأنعام: 25)

"اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو آپ کی بات سنتے ہیں، لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں، اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیا ہے!"

یہ لمحہ ہمارے لیے ایک انتباہ ہے!کیا ہمم دین کی باتوں کو سن کر ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں؟اگر ہاں، تو ہمیں فوراً اپنے کانوں کو ہدایت کے لیے کھولنے کی ضرورت ہے!

آنکھوں پر پردہ کیوں؟

"غِشَاوَةٌ" کا مطلب ہے: "گہرا پردہ" یہ وہ کیفیت ہے کہ انسان حق کو دیکھ بھی لے، تو بھی اسے نظر انداز کرتا ہے۔

"فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلْأَبْصَٰرُ وَلَٰكِن تَعْمَى ٱلْقُلُوبُ ٱلَّتِى فِى ٱلصُّدُورِ" (الحج: 46)

"حقیقت میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں!