وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ
"اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (ہرگز) مومن نہیں ہیں۔"
یہ آیت محض تاریخی منافقین کے بارے میں نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک آئینہ ہے، خاص طور پر میرے اور آپ کے لیے کہ کہیں ہم بھی "زبان" سے کچھ اور کہہ رہے ہوں اور "دل" میں کچھ اور ہو۔ یہ آیت دل کی وہ چوری بے نقاب کر دیتی ہے جو انسان خود بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ یہاں عام لوگوں میں سے ایک مخصوص گروہ کو الگ کر رہے ہیں۔ یعنی یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے ہیں، ان کی عبادات میں شریک ہوتے ہیں، مگر درحقیقت وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہوتے۔ یہاں ایک جھٹکا لگتا ہے! کیا یہ آیت ہمں بھی مخاطب کر رہی ہے؟کیا ہم بھی کہیں ان میں شامل تو نہیں جو ظاہری طور پر دینداری کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، مگر اندر کچھ اور ہے
یہاں "يَقُولُ" (کہتے ہیں) پر زور دیا گیا ہے، یعنی ان کا ایمان محض الفاظ تک محدود ہے۔ یہ مجھے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کی یاد دلاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لوگو! تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کے اعمال ان کی زبان کی تصدیق نہیں کرتے!" (مسند احمد)
یعنی کہنے اور کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ یہ آیت مجھ مجبور کرتی ہے کہ میں اپنے اندر جھانکوں: کیا میں بھی زبان سے کچھ اور کہتی ہوں اور عمل اس کے خلاف ہوتا ہے؟ کیا میں کہتی ہوں "میں اللہ سے محبت کرتی ہوں" مگر گناہ کے موقع پر اللہ کو بھول جاتی ہوں؟کیا میں لوگوں کے سامنے دین دار بنتی ہوں مگر اکیلے میں میرے اعمال کچھ اور ہوتے ہیں؟
یہاں غور کریں کہ انہوں نے رسول ﷺ، فرشتوں، اور کتابوں کا ذکر نہیں کیا! کیونکہ اللہ اور آخرت کو ماننا تو نسبتی طور پر آسان ہے، مگر جب اللہ کے احکام کو ماننے کی باری آتی ہے، جب قرآن اور حدیث کی روشنی میں چلنا پڑتا ہے، تب ان کے دل میں چور ہوتا ہے۔ آج بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں، مگر جب دین کے اصول ان کی خواہشات کے خلاف آتے ہیں تو ان کا طرزِ عمل بدل جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔" (صحیح بخاری 33، مسلم 59)
یہ حدیث مجھے ڈرا دیتی ہے! کیا میرے اندر بھی نفاق کی یہ نشانیاں تو نہیں؟کیا میں وعدہ خلافی تو نہیں کرتی؟کیا میں نے کبھی کسی کی امانت میں خیانت کی ہے؟ کیا میں بھی جھوٹ بولتی ہوں؟یہ وہ سوالات ہیں جو اس آیت کو پڑھ کر میرے ذہن میں ابھرتے ہیں۔
یہاں "وَمَا هُم" کے ساتھ تاکید آئی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ واضح فرما رہے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں! وہ سچے مومن نہیں ہیں۔ یہ بات مجھے جھنجھوڑ دیتی ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ: زبان سے ایمان کا دعویٰ کرنا کافی نہیں، جب تک عمل اس کی تصدیق نہ کرے!اگر میرا عمل میرے ایمان کے خلاف جا رہا ہے، تو کیا میں واقعی سچی مومن ہوں؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی نفاق ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا!" (صحیح مسلم 243)
یہ حدیث سن کر دل لرز اٹھتا ہے! کیا میرے اندر رائی کے دانے جتنا بھی نفاق تو نہیں؟کیا میں صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک بنتی ہوں؟کیا میرے اعمال اور میرا دل ایک ہی چیز کی گواہی دیتے ہیں؟
یہ آیت مجھے خود احتسابی کی طرف لے جاتی ہے۔ مجھے دیکھنا ہوگا کہ میں زبان سے جو کہتی ہوں، کیا میں اس پر عمل بھی کرتی ہوں؟مجھے اپنی نیتوں کو چیک کرنا ہوگا کہ آیا میں واقعی اللہ کے لیے اعمال کر رہی ہوں یا صرف دنیاوی مفادات کے لیے؟مجھے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ کہیں میں بھی ظاہری دینداری کا شکار ہو کر اندر سے کچھ اور تو نہیں؟