يُخَادِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر درحقیقت وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں، لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔
یہ آیت نفاق کی گہری حقیقت کو بیان کر رہی ہے اور ہمیں اس بات پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ دھوکہ دینے والا شخص سب سے زیادہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے، مگر اسے اس کا شعور نہیں ہوتا!
یہ حقیقت انتہائی خوفناک ہے کہ ایک انسان خود کو نیک، کامیاب، اور چالاک سمجھے، مگر درحقیقت وہ ہلاکت کے دہانے پر کھڑا ہو اور اسے اس کا احساس بھی نہ ہو۔
یہاں "يُخَادِعُونَ" کا لفظ آیا ہے، جو "خَدَعَ" (دھوکہ دینا، چالاکی کرنا) سے نکلا ہے۔ اس میں مفاعلہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے، جو باہمی عمل کو ظاہر کرتا ہے، یعنی ایسا لگتا ہے جیسے یہ لوگ اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
مگر کیا اللہ سے کوئی دھوکہ دے سکتا ہے؟ کیا وہ اللہ کو بے خبر سمجھتے ہیں؟ یہ نفاق کی سب سے بڑی حماقت ہے کہ ایک شخص ظاہری طور پر ایمان کا اظہار کرتا ہے، مگر دل میں کفر، شک اور بدنیتی رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ کے علم سے پوشیدہ ہے۔ وہ ظاہری عبادات میں شریک ہوتے ہیں، نیکی کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر درحقیقت ان کا دل اللہ کی محبت، خشیت اور اطاعت سے خالی ہوتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ ہے:
"قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جو دو چہرے رکھتا ہے، جو ایک گروہ کے پاس ایک چہرہ لے کر جاتا ہے اور دوسرے کے پاس دوسرا چہرہ۔" (صحیح بخاری 6058، صحیح مسلم 2526)
یہ حدیث مجھے جھنجھوڑ دیتی ہے: کہیں میں بھی لوگوں کے سامنے ایک نیک چہرہ اور اکیلے میں کوئی اور چہرہ تو نہیں رکھتی؟کہیں میں بھی دنیاوی فائدے کے لیے دین کو صرف ایک ظاہری لبادے کے طور پر تو نہیں پہن رہی؟
یہاں واضح کیا گیا کہ یہ منافق صرف اللہ ہی نہیں بلکہ ایمان والوں کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں شامل ہو کر ان کا اعتماد حاصل کریں، مگر درحقیقت وہ اندرونی طور پر اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی ایسے افراد نظر آتے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، مگر ان کے خلاف ہی سازشیں کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
"جس نے ہمیں دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں!" (صحیح مسلم 102)
یہ حدیث مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں اپنا جائزہ لوں: کیا میں بھی کسی مسلمان بھائی یا بہن کو دھوکہ تو نہیں دے رہی؟ کیا میں اپنی ذات کے مفاد کے لیے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش تو نہیں کر رہی؟
یہ جملہ نہایت خطرناک حقیقت کو واضح کر رہا ہے! منافق یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے، مگر اصل میں وہ اپنے آپ کو تباہ کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنی آخرت برباد کر رہا ہوتا ہے، مگر اسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔قرآن میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِى ٱلدَّرْكِ ٱلْأَسْفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ
"بے شک منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے!" (النساء: 145)*
یعنی وہ خود کو جنت کے قریب سمجھ رہے ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ جہنم کے گہرے ترین حصے میں گر رہے ہوتے ہیں! یہاں میں خود سے سوال کرتی ہوں: کیا میں بھی اپنے آپ کو کسی فریب میں مبتلا کر رہی ہوں؟کیا میں نے اپنی زندگی کے کسی شعبے میں ایسی خود فریبی پال رکھی ہے جو میری آخرت کے لیے نقصان دہ ہے؟